👈 *" خوددار_انسان_اور_نسلی_گھوڑا "*
قدیم زمانہ میں کسی عرب شخص کے پاس جب گھوڑوں کی تعداد زیادہ ہوجاتی اور وہ فرق نہ کر پاتا کہ کونسا اصلی و نسلی ہے، اور کونسا کمی ہے تو وہ سب گھوڑوں کو ایک جگہ جمع کرتا اور ڈنڈے مارتا اور بھوکا رکھتا. پھر ان کے سامنے کھانا رکھتا تو جو کمی ہوتے وہ بھوک کی وجہ سے کھانے کی طرف دوڑتے اور جو اعلی نسل کے ہوتے وہ اپنے اوپر ہاتھ اٹھانے والے کے ہاتھ سے کھانا نہ کھاتے!!
یہ جانوروں کی خوداری کا حال ہے
خودار مرد میں نسلی گھوڑے سے زیادہ خودارادیت ہوتی ہے.وہ ایسا ہوکہ لوگ تمنا کریں اسے ملنے کو حاصل کرنے کو دوست بنانے کو... کیونکہ انسان کا سب سے اچھا اور مخلص دوست اور کوئی نہیں بن سکتا.
جو وقار اور عزت اس کی ہوتی وہ کسی عام شخص کی نہیں ہوتی. وہ کسی کی مدد بھی کرتا تو چھپ کر اور خلوص نیت سے کرتا.

Comments