،،،چھوٹے
آپ نے اکثر گیراجوں
میں ایک لفظ سنا ھوگا چھوٹے فلاں گاڑی کا ٹائر نکال دو فلاں گاڑی کا بونٹ کھول دو چھوٹے فلاں پانہ لے آ یہ چھوٹے دراصل اپنے گھر کے بڑے ھوتے ھیں جس عمر میں ان کے ہاتھوں میں بستہ اور کتابیں ھونی چاہیئے تھیں اس عمر میں ان کی گھریلو مجبوریاں اور محرومیاں ان کے ہاتھوں میں پانے اور ھتوڑا پکڑادیتی ھیں ان کے گریس اور آئل سے لتھڑے سیاہ ہاتھ اور کپڑے ان کی محنت وعظمت کا منہ بولتا ثبوت ھیں وطن عزیز پاکستان میں چائلڈ لیبر کا قانون موجود ھے لیکن اس پر صفر فیصد بھی عمل درآمد نہیں ھے تمام حکومتی ادارے اور این جی اوز بلند و بالا دعوۓ کرتے ھوۓ نظر آتے ھیں لیکن عملی طور پر ان کا کام اور کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ھے جن بچوں کو اسکولوں میں علم کی روشنی سے منور ھونا چاہئیے تھا وہ ورکشاپوں میں ھوٹلوں میں ملوں میں فیکٹروں میں اور روڈ پر گاڑیاں ڈرائیو کرتے ھوۓ نظر آتے ھیں یقینی طور پر ایسے بچوں کے والدین کی اپنی
مجبوریاں و محرومیاں ھوں گی جو اپنے پھول جیسے بچوں سے محنت و مزدوری کروانے پر مجبور ھیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان حکومتی اداروں اور این جی اوز کا بھی قصور ھے جو ایسے مسائل کے حل کےلیے کوئ جامع اور ٹھوس پالیسی مرتب نہیں کرتے کے غریب والدین بھی اپنے بچوں کو علم کی روشنی سے روشناس کرواسکیں آرمی پبلک اسکول کے سانحے میں شہید ھونے والے بچے بھی اس قوم کے بچے تھے جن کی یاد میں میڈیا نے سارا دن مختلف پروگرامز پیش کئے موم بتی مافیا موم بتیاں جلاتی رھی بڑے بڑے پروگرام و سیمینار مرتب کئے گۓ بلاشبہ یہ سب کچھ ھونا چاہیے تھا ان شہید بچوں کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے تھا لیکن مختلف ورکشاپس میں ھوٹلوں میں ملوں میں دوکانوں پر بنگلوں میں کام کرنے والے اور چھوٹے کہلانے والے بھی اسی قوم کے بچے ھیں کچھ ان کی احوال سے بھی واقفیت ھونی چاہیے کچھ ان کے والدین کی بھی داد رسی ھونی چاہیے یہ دوھرے قوانین اور دوھرا میعار ختم ھونا چاہیے تاکہ معاشرے سے غربت و افلاس اور محروم کے بادل چھٹ جائیں سنگین جرائم اور بچوں سے زیادتی کے واقعات ختم ھوجائیں والدین اپنے گھر کے بچوں کو تعلیم دلوا سکیں اور انھیں چھوٹا بنانے پر مجبور نا ھونا پڑے ان چھوٹوں سے بہت شفقت اور محبت سے پیش آئیں کیونکہ یہ چھوٹے اپنے گھر کے بڑے ھوتے ھیں اور ان کے دم سے ان کے گھر کا نظام چلتا ھے ایسے چھوٹوں کے بڑے پن کو میرا سلام ھے


Comments