The end of ego. انا کا خاتمہ


-انا کا خاتمہ

مراکش میں ایک خانقاہ تھی...........
جہاں کوئی حصول علم کے لئے جاتا تو اس کا سر منڈوا دیا جاتا 
اور اسےبڑے دروازے پر بٹھا دیا جاتا کہ وہ ہر آنے والے کے جوتے سیدھے کرتا رہے، جب وہ پورے ذوق و شوق سے یہ کام کرنے لگتا
تو اسکی ترقی کر دی جاتی اور اسے مہمانوں کے کھانے کے بعد 
برتن اٹھانے پر لگا دیا جاتا، جب وہ اس میں بھی اپنا شوق شامل کر لیتاتو اسے برتن دھونے کی ڈیوٹی دے دی جاتی، جب وہ اس میں بھی اپنی لگن سے کامیاب ہو جاتاتو اسے مہمانوں کو کھانا پیش 
کرنے پر معمور کر دیا جاتا۔۔۔۔۔۔۔
حتیٰ کی ترقی کرتے کرتےوہ صاحب علم مرشد کا قرب حاصل کر لیتا
کیونکہ اب اس میں وہ انا جو پہلے دن تھی موجود ہی نہ تھی۔ 
لہٰذا انا ایک رکاوٹ ہے حصول علم و معرفت میں۔"مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
'جب میں اور تُو ایک ہو جاتے ہیں 
تو دوئی نہیں رہتی جب دوئی ہی نہ رہےتو انا کیسی'"
انا جب تک، فنا کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتی،
نماز عشق سے دل کی جبیں محروم رہتی ہے

Comments