یونیورسٹی اور ڈگری کی کتنی اہمیت ہے
پچھلے ہفتے میرے ساتھ ایک طالبعلم کا شام 5 بجے کیریئر کونسلنگ کے لیے سیشن بک تھا. یہ اس دن کا میرا آخری سیشن تھا کیونکہ میں اپنے دوست کے ہسپتال میں شام کے وقت ہونے والے ایک ذہنی صحت بارے آگاہی کے سیمینار میں عشائیے پر مدعو تھا....
میرا کلائینٹ اپنے مقرر وقت سے بہت لیٹ تھا.. وہ میرے آفس میں 5 بج پر پنتالیس منٹ پر پہنچا تھا اور میرے پاس اسے دینے کے لیے صرف 15 منٹ تھے..
اس کو دراصل اس بات میں راہنمائی درکار تھی کی نفسیات کی ڈگری لے کر کامیاب ماہر نفسیات بننے کے لیے اسے کس یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینا چاہیے....
چونکہ میں لیٹ ہو رہا تھا اور اسکا سیشن بھی لینا ضروری تھا اس لیے میں نے اس اپنے ساتھ لیا اور راستے میں دوران سفر ہی اسکی راہنمائی کرنے کا فیصلہ کیا.....
ہماری منزل راولپنڈی میں واقع نشے اور ذہنی مریضوں کا ایک ہسپتال تھا.اور میرے اس کلائینٹ کی راہنمائی کے لیے اس ہسپتال کے مالک کی حقیقی کہانی کافی تھی اس لیے میں نے اسی پر ہی اکتفا کیا...
بات کچھ یوں ہے کہ آج سے 6 سال پہلے جب میں یونیورسٹی میں نفسیات کا طالبعلم تھا تو اچانک میرے موبائل پر ایک کال وصول ہوئی ہے.. کال کی دوسری طرف سکول میں میرے سکول کے جونیئرز لیکن میرے بہت اچھے دوست تھے.. دراصل کالج سے فراغت کے بعد وہ دونوں یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے کے بارے میں مجھ سے راہنمائی لینا چاہتے تھے... میں دونوں کے مالی اور خاندانی حالات سے اچھی طرح باخبر تھا.. ایک ہمارے گاؤں کی ایک بہت ہی ویلسیٹلڈ اور زمیندار فیملی کا چشم وچراغ تھا دوسرا میری طرح کا ایک کچے مکان کی باسی فیملی کا ہونہار فرد تھا....
چونکہ دونوں کے مالی حالت مختلف تھے اور ہمیں یونیورسٹی میں چند سال گزار کا اندازہ ہو چکا تھا کہ غریبی کے عالم میں سفید پوش بن کر رینا کتنا مشکل ہے اس کے مدنظر میں نے دونوں کو مختلف مشورے دئیے.....
جو ایک غریب فیملی سے تھا اسے کوئی جاب کرنے کا ساتھ ساتھ ورچوئل یونیورسٹی سے اپنی ڈگری شروع کرنے کا مشورہ دیا کیونکہ کم بجٹ اور جاب کے ساتھ ساتھ ڈگری لینے والوں کے لیے ورچوئل یونیورسٹی ایک بہترین اور معیاری انتخاب ہے.....
اور دوسرا دوست جو ایک ویل سٹیٹلڈ خاندان سے تھا اس کا داخلہ اسلام آباد کی ایک بہترین یونیورسٹی میں ہو گیا...
وقت آہستہ آہستہ گزرنے لگا ورچوئل یونیورسٹی میں داخلے لینے والے دوست کی جاب میں نے یہاں ایک ایک ہسپتال کے ایڈمن سٹاف میں کروادی اور وہ ڈگری کے ساتھ ساتھ جاب کرکے خود کو سپورٹ کرنے لگا....
چار سال بعد ڈگری مکمل ہونے کے خوشی میں وہ دونوں میرے آفس میں مٹھائی لے کر آۓ ان دنوں میں ایک راہیب سینٹر میں بطور موٹیویشنل اسپیکر کام کر رہا تھا... لہذا میں نے دونوں کو اپنے پاس بطورانٹرنی کام کرنے کی آفر کی تو اسلام اباد کی مہنگی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل دوست نے بتایا کہ اسکے بابا نے اسکی انٹرشپ کی بات ملٹری ہسپتال میں کر رکھی ہے البتہ ورچوئل کے گریجوایٹ نے میرے پاس انثرشپ کے لیے رضامند ظاہر کی کیونکہ وہ شروع سے مجھے اپنا مینٹور مانتا تھا.....
یہ دراصل ایک محنتی, دیانتدار اور ہار نہ ماننے والا انسان تھا.. تین ماہ بعد ایک دن اس نے مجھے یہ کہ کر حیران کر دیاگیا کہ سر میں نے دوران جاب پچھلے چار سالوں میں پانچ لاکھ تک پیسے اکٹھے کیے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میں اپنا راہیب سینٹر بناؤں..... چونکہ میں ہمیشہ سے اپنا کام کرنے والوں کا حامی رہا ہوں لہزا میں نے اس کا مزید حوصلہ بڑھایا اور اسکے اپنے راہیب سینٹر کی بنیاد رکھی دی اور میں اپنے ریفرنس سے آنے والے مریضوں کو اس کے پاس بھیجنے کے ساتھ ساتھ بنا کسی تنخواہ کے ہفتے میں دو دن اسکے راہیب میں دینا شروع کر دے اور آہستہ آہستہ اس کا راہیب میں مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی...
اس کے برعکس دوسرا شہزادہ چونکہ چند ہزار کی کسی راہیب یہ ہسپتال کے نوکری کے بجاۓ ملٹری سائیکالوجسٹ یا گورنمنٹ کی جاب کے چکر میں تھا ...جاب نہ ملنے کی وجہ سے پہلے سے بھی زیادہ مہنگی یونیورسٹی میں ایم ایس کا ایڈمیشن لے چکا تھا........
آج ٹھیک تین سال بعد میں اور میرے کلائینٹ جس ہسپتال میں جا رہے تھے اسی ہسپتال میں مہنگی یونیورسٹی سے کم از کم 15 لاکھ میں بی ایس اور ایم ایس کی مہنگی ڈگری لینے والا میرا یہ مہنگا دوست اس راہیب میں پچاس ہزار ماہانہ پر بطور ماہر نفسیات جاب کرتا ہے جبکہ صرف تین لاکھ میں ورچوئل سے ڈگری لینے والا میرا سستا مگر بہت قابل دوست اس راہیب کا سی ای او ہے اور ماہانہ تین لاکھ سے زائد کماتا ہے.........
اس لیے یاد رکھیے..... مہنگی یونیورسٹیاں آپ اچھا ماحول اور بہتر پروفیشنل بننے کے مواقع ضرور مہیا کرتی ہیں لیکن یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ میں ان مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کا کتنا دم ہے .اگر آپ میں دم ہو تو پھر کوئی بھی یونیورسٹی آپ کے لیے اہمیت نہیں رکھتی.... .یاد رکھیے سکوپ آپ کی ڈگری یا یونیورسٹی کا نہیں ہوتا ہے سکوپ آپ کے اندر چھپے ٹیلینٹ کا ہوتا ہے.. بیکن ہاؤس اس لیے بڑا نام ہے کیونکہ وہاں بڑے لوگوں کے بچے زیر تعلیم ہیں... اور غریب آدمی انکی فیس برداشت نہیں کر سکتا اور اوپن یونیورسٹی کو اسلیے کم تر سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہاں وہ مڈل کلاس پڑھتے جو یونیورسٹی اور ہوسٹل کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے.... دراصل ہمارے معاشرہ ذہنی غلامی کے اس دور سے گزر رہا ہے جہاں ہم نے پیسے اور عہدوں کے بل پر سکولوں, یونیورسٹیاں اور سو سائیٹیوں کو ان میں رہنے اور پڑھنے والوں کے بل بوتے پر اعلی سمجھنا شروع کر دیا ہے ورنہ حقیقت تو یہ ہے ہیرو کوئلہ کی کان میں ہو یا جوہری کے تھیلے میں وہ ہیرا ہی رہتا ہے......

Comments